Home / Latest Top Videos Online / Featured Videos / najam sethi ki churya Iqbal k shaheeen

najam sethi ki churya Iqbal k shaheeen


PUBLISHED : February 25, 2015

najam sethi ki churya Iqbal k shaheeen





najam sethi ki churya Iqbal k shaheeen

یہ حلقہء یارانِ مسند کے سرپنچ وہی نجم سیٹھی ہیں جن کی شرارتی چڑیا دہلی اور واشنگٹن کا دانہ چگتی چگاتی ، اسلام اور پاکستان کے دینی و قومی نظریات پر چونچیں مارتی رہتی ہے۔ یہ بھارت دوستی کے جنون میں مبتلا حکمرانوں اور میڈیا کے کارِ خاص اور سیاسی ہارس ٹریڈنگ سے لیکر کرکٹ جوا مافیہ حلقوں کے یارِ خواص ہیں ۔ یہ بھارت کے ان ابلیسی مافیوں کی غلامی میں “بے بصارت و سماعت ” ٹھہرے ہیں، جن کے ہاتھوں میں پاکستانی کرکٹ بورڈ سمیت انگنت ننگ وطن ہستیوں کی ڈوریں ہیں۔

ان کی طرف سے چیف سلیکٹر بنائے گئے مصدقہ جواری معین خان کی آسٹریلوی جوا خانے کی یاترا ، بھارتی سٹار سپورٹس کے اہل کار ایکسپرٹس کو پاکستانی کرکٹ میں اہم عہدوں کی تقسیم ، عبدالرزاق پر سچ بولنے کے جرم میں جرمانہ اور ہمیشہ کیلئے چھٹی ، مصباح کی بزدلانہ روش کے باوجود اس کی کپتانی برقرار رکھنے جیسے فیصلے پاکستان کرکٹ کی تباہی میں سیٹھی مافیہ کا ابلیسی کردار عریاں کر رہے ہیں۔ ان کی چڑیا یہ کبھی نہیں بتائے گی کہ ماضی میں ان کے ” اعلی کردار چیف سلیکٹر” کی بیوی بھی اس پر زیورات چوری کر کے جوے میں ہارنے کا مقدمہ درج کرا چکی ہے۔

ان کے خیال میں ان کی چڑیا زمانے بھر کے حقائق سے آگاہ ہے لیکن اس چڑیا کو اس حقیقت سے نا آشنائی ہے کہ ماضی کا بخشیشی نگران وزیراعلی ، پاکستانی کرکٹ کی تباہی ، امن کی آشا اور میڈیا میں ڈالروں کی تقسیم سے جڑی سازشوں کا نگران اعلی ہے۔

لیکن اے شہباز ، یہ مرغانِ صحرا کے اچھوت ۔۔۔۔ ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر
ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام ۔۔۔۔ روح ہے جس کی دم پرواز سرتاپا نظر

سیٹھی کی بھارت برانڈ چڑیا کو پاکستان کی عسکری قوت سے فطری عداوت ہے۔ اس کے مطابق جو رقم دفاع پر خرچ ہوتی ہے وہ تعلیم اور صحت کیلئے خرچ ہو سکتی ہے۔ اس کی دلی تمنا ہے کہ تعلیمی نصاب سے قرآنی و قومی نظریات اور اکابرین ملک و ملت کے مضامین حذف کر کے کارل مارکس ، بائبل اور مہا بھارت کے مضامین پرمشتمل تعلیم عام ہو۔

اس کی خواہش ہے کہ پاکستان اس کے محبہب دیش بھارت کے حضور ہاتھ باندھے اور امریکی سامراج کے سامنے دو زانو کھڑا رہے، لیکن اپنے پاؤں پر کبھی کھڑا نہ ہو سکے ۔ یہ چالاک چڑیا بھارت کے پچاس کروڑ ان پڑھوں کی محرومیوں اور امریکہ ، مغرب اور اسرائیل سے اربوں ڈالرز کی اسلحہ خریداریوں کے بارے گونگی بہری اور اندھی ہے۔ سیٹھی صاحب کی چڑیا جس شاہین کی طاقت سے خوف زدہ ہے، اقبال کا وہی شاہین ہمیں اپنی خود مختاری و دفاع کیلئے تگڑا ہونے کیلئے باور کراتا ہے ۔ دراصل اقبال کو شاہین پسند ہی اس لئے ہے کہ وہ پرندوں کی دنیا میں سب سے طاقتور ہے۔ ۔

کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ ۔۔۔۔ بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ

حسن و زر کے پجاری سیٹھی صاحب ماضی میں اپنے یارِ غار سلمان تاثیر اور آج بدیسی سفارت کاروں کی شراب و شباب کی محفلوں جان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اقبال کیلئے مادی و ظاہری حسن میں کوئی کشش نہیں، انہیں حسن طاؤس اور خوش لحانیء بلبل میں کوئی دلچسبی نہیں، کیونکہ یہ تو صرف جمال ناتواں کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق تیتر اور کبوتر اپنی کمزوری کے باعث ہی شکار ہوتے ہیں ۔

انہوں نے اس حقیقت کو جن اشعار میں بیان کیا ہے۔ ان کے پس منظر میں ایک گہری فکر لئے یہ واقعہ ہے۔ عرب کے مشہورنابینا شاعر ابوالعلا احمد المعری کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کبھی گوشت نہیں کھاتا تھا ایک دوست نے اسے ترغیب دینے کیلئے ایک بھُنا ہوا تیتر بھیجا۔ تو احمد المعری لذیذ پکوان سے متاثر ہونے کی بجائے ، تیتر سے مخاطب ہو کر بولا کہ ، ” کیا تجھے معلوم ہے کہ تو گرفتار ہو کر اس حالت کو کیوں پہنچا اور وہ تیرا کون سا گناہ ہے، جس کی سزا تجھے اس موت کی صورت میں ملی؟” ۔۔ تیتر کو دیے گئے پیغام میں چھپی اس تلخ حقیقت کو اقبال ان خوبصورت اشعار میں بیان کرتے ہیں۔

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو ۔۔۔۔ دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

سیٹھی کی بھارتی چڑیا کا دعوی ہے کہ امریکہ کا فوجی بجٹ اور اربوں ڈالروں کا خرچ قیام امن اور ترقی پذیر ممالک کو دہشت گردی اور جہالت کے خطرات سے بچانے کیلئے ہے ۔ اغیار کی غلامی کے پنجرے کی قیدی اس چڑیا کو کیا خبر کہ مومن کے فکری مرشد اقبال کیلئے حریت اور آزادی کی قدر بڑی اہم ہے ۔ انہیں یہ قدر کانگرسی چڑیوں اور میڈیائی دانشوروں کے طوطوں میں نہیں بلکہ شاہین کی ذات میں نظر آتی ہے ۔ اقبال کا شاہین سیٹھی کی چڑیا کی طرح سامراج و مغرب کے شاہ و سلطان کا پالا ہوا نہیں بلکہ اس کیلئے فقر، آزادی و حریت اور خود داری ہی اولین و آخرین تمنا ہے۔ اقبال سیٹھی جیسی غلامانہ ذہنیت والے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو بے ساختہ پکار اُٹھتے ہیں ۔

وہ فریب خورہ شاہیں کہ پلا ہو گرگسوں میں ۔۔۔۔ اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ رسمِ شاہبازی

سیٹھی کی چڑیا سامراج و ہند کے طاقتور مافیوں کی پروردا و پجاری ہے۔ لہذا انہی کی “عظمت و طاقت ” کے گیت گاتی ہے۔ جبکہ اقبال کے مطابق طاقت و قوت کا حصول ایک اہم صفت ضرور ہے لیکن طاقت کا مذہب و اخلاق کی متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے درست اور عاقلانہ استعمال اس سے بھی اعلی صفت ہے ۔ اقبال کے مطابق طاقت مطلق العنانیت بن کر مذہب و اخلاق کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے تو شیطانیت اور فرعونیت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ مقتدر و حکمران طبقہ طاقت کے غرور میں بدمست یا شباب و شراب کے نشے میں خرمست ہو جائے تو” ڈاؤن دی لائن ” جو ہولناک بگاڑ آتا ہے وہ پورا معاشرتی ڈھانچہ تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ

لا دین ہو تو زہر حلاحل سے بھی بدتر ۔۔۔۔ ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاق

یہ غلامانہ ذہنیت ہی تھی کہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں بھی صرف ایک نجم سیٹھی کی چڑیا نے سی آئی اے کے ایک مصدقہ ایجنٹ کیخلاف کسی قانونی کارروائی کی مخالفت میں چیخ و پکار اٹھائی تھی۔ قومی حمیت اور غیرت سے نا آشنا امریکی گماشوں کو کیا خبر کہ غیرت و خوداری مسلمان کی سب سے اعلی و عرفی صفت ہے اور یہی وصف خاصہء شاہین بھی ہے ۔ شاہین دوسروں کے احسان کے صدقے ملنے والا دانہ نہیں چگتا اور نہ ہی گدھ کی طرح مردہ شکار کھاتا ہے ۔ اقبال کے بندہء درویش اور سیکولر دانش ور میں یہی فرق ہے کہ گدھ اونچا تو اُڑ سکتا ہے لیکن زندہ شکار یعنی حقیقت اس کے نصیب میں نہیں ہوتی۔

بلند بال تھا لیکن نہ جسور و غیور ۔۔۔۔ حکیم ِ سر ِمحبت سے بے نصیب رہا

پھرا فضائوں میں گرگس اگر چہ شاہیں وار ۔۔۔۔ شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا

ماضی اور حال کے تازہ حالات گواہ ہیں کہ ایسے ” عقل کل ” حضرات صرف اپنے یا اپنے پسندیدہ فرد واحد کے نظریات کو سماج و سیاست میں تبدیلی کا محور بنا کر اندھی تقلید کے رواج و رحجان کو جنم دیتے ہیں۔ یہ جس ادارے میں بھی گھستے ہیں ، اس کا اپنی تنہا من مانیوں سے بیڑا غرق کر کے رکھ دیتے ہیں اور کرامتِ ابلیسی یہ کہ ، در حقیقیت وہاں سے نکل کر بھی نہیں نکلتے۔ جیسے بظاہر تو حضور کرکٹ بورڈ سے نکل چکے لیکن ان کا بھارت برانڈ مافیہ پاکستانی کرکٹ کا سوا ستیاناس کرنے کیلئے، وہاں ابھی بھی سرگم ہے۔

اقبال جس خودی کو نہاں کرتے ہیں وہ خود پرستی اور غرور و تکبر نہیں سکھاتی بلکہ اپنی ذات کی پہچان کے ساتھ معاشرتی فلاح کیلئے اپنی صلاحیتوں کو سموتی ہے۔ مردِ مومن کی انفرادی خوبیاں جب دوسروں کے ساتھ ملکر اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنتی ہیں تو نتیجے میں ریاست مدینہ اور دور فاروقی جیسا وہ باکمال و بے مثال معاشرہ جنم لیتا ہے جس کی مثل و نظیر تاریخ آدام و عالم میں نہیں ملتی ۔ اقبال امت کی اس شیرازہ بندی کے بارے فرماتے ہیں

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ۔۔۔۔ موج دریا میں ہے بیرون دریا کچھ نہیں

سیٹھی صاحب کو بیحد تکلیف ہے کہ بقول ان کے ” پاکستانی نوجوانوں جب یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون ہیں تو ان کا جواب یہ نہیں ہوتا کہ ’’میں ایک پاکستانی ہوں‘‘ بلکہ وہ کہتے ہیں ’’میں ایک مسلمان ہوں‘‘ بھارت میں رہنے والا ایک مسلمان خود کو ’’انڈین‘‘ پہلے اور مسلمان بعد میں کہتا ہے “۔۔۔ سیٹھی صاحب کو شدید جلن ہے کہ پاکستانی نئی نسل کے دلوں میں دین و ملت کی محبت کی شمعیں اور ہاتھوں میں حب الوطنی کی مشعلیں قریہ قریہ روشنی پھیلا رہی ہیں۔ چڑیا کیا جانے کہ جس بچے کے کانوں میں جنم لیتے اذان للہ اکبر گونجے گی اس کے اندر سے سولی پر بھی صدائے لا الہ ہی بلند ہو گی۔ مگر سیٹھی صاحب جیسے جن کانوں میں مندری بھجنوں کے زہر سرایت کر چکے ہوں وہ سدا مہا بھارت ہی کے گیت گاتے ہیں۔

پاکستانی نئی نسل کا موازنہ بھارت کی اس سیکولر نسل سے ممکن ہی نہیں جو ہندو سکھوں سے شادیاں بھی گناہ یا عیب نہیں سمجھتی۔ مفکر پاکستان اقبال کو اپنے مسلمان ہونے پر بڑا فخر تھا ۔ مغربی تہذیب کا طلسمی رنگ اور ظاہری ترقی و خوشحالی کی لش پش بھی اس مردِ درویش کو قطعی متاثر نہ کر سکی۔ وہ مغربی تہذیب و تمدن کی رنگینیوں میں رہ کر بھی اپنے دین اور مشرقی تہذیب نہیں بھولے، فرماتے ہیں ۔ ۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ ۔۔۔۔ سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ طیبہ و نجف
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی ۔۔۔۔ نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

سیٹھی صاحب کی ” کامیابی” کا راز عالم کفر کی غلامی لیکن اقبال کے مردِ مومن کیلے پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل ہی دین و دنیا میں کامرانیوں کی کنجی ہے۔ اقبال کے مرد حق میں جملہ خوبیاں نبیء آخرالزماں کی پیروی سے مشروط ہیں۔ اسی بعد از خدا بزرگ ہستی کے نقش پا کی خاک مومن کی آنکھوں کا سرمہ ، قلب کی ٹھنڈک اورآخرت میں ذریعہء نجات ہے۔ لیکن سیٹھی صاحب کی چڑیا کیلئے غلامیء سامراج، اطاعتِ مغرب اور پیرویء برہمن ہی وجہِ تاج و زر ہے۔ اقبال کے مردِ درویش کیلئے غلامیء رسول اور عشقِ مصطفے ہی زندگی میں حقیقی انقلاب کا سرچشمہ ہے ۔ ۔

اس دلی دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحان و تعالٰی سیٹھی صاحب کو ان کے ہم نوالہ ہم پیالہ یارِ غار اور بزنس پارٹنر سلمان تاثیر جیسے انجام سے سدا محفوط رکھے، حروفِ آخر میرے دو اشعار سیٹھی صاحب اور ان کی چھمک چھلو چڑیا کی نذر ۔ ۔

فقر کشکول نہ مسند کی گدائی ہے میاں ۔۔۔۔ عشق قیصر کا نہ کسریٰ کا مجازی ہے میاں
میں ہوں درویش مرا عشق بھی عالم سے جدا ۔۔۔۔ میرا محبوب بھی محبوبِ الہی ہے میاں








Share:


Latest News