Home / Latest Top Videos Online / Featured Videos / Shiva is not related to Islam

Shiva is not related to Islam


PUBLISHED : February 26, 2015

Shiva is not related to Islam





Shiva is not related to Islam

آج کل ایک دیوبندی مفتی،مولوی الیاس کا بیان کا چرچا ہورہا ہے، وہ کہہ رہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا دھرم مکہ مدینہ سے آیا، غلط ہے، وہ شیوا دیوی سے تعلق جوڑ رہا ہے، کہ وہ پہلی لارڈ تھی-

یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ ہمارا دین کا تعلق مکہ مدینہ سے نہیں ہے، یا شیوا اسلام کا پہلا پیغمبر ہے-
حضرت آدم علیہ السّلام، اسلام کے پہلے پیغمبر تھے، زمین پر انسان کی بنائی گئ سب سے پہلی تعمیر خانہ کعبہ ہےجسے حضرت آدم علیہ السلام نےخود تعمیر کیا تھا ۔
میں خانہ کعبہ سے متعلق کچھ معلومات شئیر کررہا ہوں، جس سے اس رونگ نمبری ملّا کی کذب بیانی بھی بے نقاب ہو جائےگی-
‎‘
خانہ کعبہ کو بیت اللہ، الكعبة المشرًّفة، البيت العتيق البيت الحرام بھی کہا جاتا ہے۔‎
متعدد روایات کے رو سے روئے زمین پر انسان کی بنائی گئ سب سے پہلی تعمیر خانہ کعبہ ہےجسے حضرت آدم علیہ السلام نےخود تعمیر کیا تھا ۔ خانہ کعبہ کا نقشہ جبرائیل علیہ السلام نے تیار کیا۔
نبی اکرم ﷺکا کا ارشاد پاک ہے
“اللہ نے زمین پر سب سے پہلےمکہ المکرمہ پیدا فرمائی یہ زمین پوری طرح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اللہ سبحان و تعالٰی نے زمین کی تخلیق فرمائی اور خانہ کعبہ ظاہر ہوا۔

حدیث پاک میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کعبہ معظمہ بیت المقدس سے چالیس برس قبل بنایا گیا۔حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل کعبة اللہ کی تعمیر ہوئی ۔

حضور پر نور ﷺ سے اول بیت سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا
اَلمَسجِدُ الحَرَامُ ثُمَّ بَیتُ المَقدَسِ۔یعنی ” پہلے مسجد حرام (کعبة اللہ شریف) پھر بیت المقدس
پھر ان دونوں کے درمیان مدت کا فرق دریافت کیا گیا تو فرمایا
اَربَعُونَ سَنَة۔یعنی ”چالیس برس“

جب طوفان نوح نے پوری زمین کو گھیر لیا اور ساری چیزیں زیر آپ چلی گئيں صرف خانہ کعبہ تھا جو غرق آب نہ ہوا اور اس لئے خانہ کعبہ کو ” بیت العتیق” کہا گیا ، اگر اسلامی حوالہ سے دیکھا جائے تو امام نووی نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ خانہ کعبہ پہلا گھر ہے جسے حضرت آدم ؑ نے زمین میں تعمیر کیا)۔ اسی طرح امام بیہقی نے دلائل النبوہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوعاً یہ روایت ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کے پاس جبرئیل امین ؑ کو بھیج کر کعبۃ اللہ کی تعمیر اور پھر اس کے طواف کا حکم دیا۔ حضرت آدم ؑ نے اس حکم کی تعمیل کرلی تو ان سے کہا گیا کہ اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ(آپ پہلے آدمی ہیں اور یہ بیت اللہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے)۔ حضرت آدم ؑ کا تعمیر کردہ بیت اللہ طوفانِ نوح تک اس زمین پر اسی جگہ موجود رہا۔ روایات سے پتا چلتا ہے کہ طوفانِ نوحؑ کے زمانے میں اسے اُوپر (آسمان پر) اُٹھا لیا گیا اور وہاں فرشتوں کے ذریعے وہ آباد ہوگیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے تک یہ جگہ خالی رہی اور اس مقام پر کوئی تعمیر نہیں ہوئی۔ البتہ یہ جگہ زمین سے اُونچی تھی اور ایک ٹیلے کی شکل میں تھی، اس لیے بارش اور سیلاب کا پانی اس تک نہ پہنچتا تھا۔
اور جب حضرت ابراھیم علیہ السلام اور انکی اہلیہ حاجرہ سلام اللہ علیہا اور ان کا فرزند اسماعیل علیہ السلام حکم الہی سے شام سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ میں داخل ہوے اور یہاں پر مکین ہوے ۔پھر اس جگہ نے آہستہ آہستہ رونق پیدا کی ۔حضرت ابرھیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے خانہ کعبہ دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم ہوا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے تعاون اورحضرت جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائي سے 5 ذیقعدہ کوخانہ کعبہ کا دیوار تعمیر کرنا شروع کیا اور 27 ذیقعدہ کو مکمل کیا اور اس کے بعد حجر الاسود جوکہ بہشت کا پتھر ہے کواس کے دیوار پر نصب کیا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھے طور سینا ، طور زینا، جودی ، لبنان اور حرا جبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نےرکھےتھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کو طواف کرنے اور خدا کی عبادت کرنے والے پہلے فرد تھے اور خدا سبحان سے اپنے اعمال کو قبول فرمانے کی درخواست کی ۔
قرآن نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
وَ اِذْ يَرْفَعُ اِبْراھيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اِسماعيلَ رَبَّنا تَقَبَّلْ مِنّا، اِنَّكَ اَنتَ السَّميعُ الْعَليمُ.

پارہ 3 سورۃبقرہ 2 آيت 127
اسکے بعد خانہ کعبہ موحدین کا مقدس ترین مکان بن گیا اور روز بہ روز اس کی عظمت و شوکت میں اضافہ ہوتا رہا ۔
تاریخ عتیق بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اس سے قبل کوئی ایک بھی ایسی عبادت گاہ کائنات میں موجود نہیں تھی جسے خدا کا گھر کہا گیا ہو ۔ اس کی تصدیق قرآن مجید بھی ان الفاظ میں کرتا ہے
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ۔
سورۃآل عمران آیت ۹۶

بیشک سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے وہ مکہ میں ہے مبارک ہے اور عالمین کے لئے مجسم ھدایت ہے۔

قرآن کے اس واضح اعلان کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ رونگ نمبر ملّا کی بات پر کان دھرا جائے، کہ شیوا پہلا نبی ہے اور اسلام انڈیا سے شروع ہوا تھا-








Share:


Latest News