X

سانحہ سا ہیوال کیس کا تو پانسہ ہی پلٹ گیا گولیاں پولیس اہلکارو ں نے نہیں بلکہ کس نے برسائیں ایسا انکشاف کے پوری قوم دنگ رہ گئی

ساہیوال میں مبینہ مقابلے کا مقدمہ تھانہ کائونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ لاہور میں بھی درج کر لیا گیا .سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں تین اہلکاروں کا نام بھی دیا گیا ہے جو کہ آپریشن میں شریک ہوئے. سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق کارروائی میں کارپورول محسن،رمضان اور حسنین اکبر شریک ہوئے.مقدمہ 302/324،353اور دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے .تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے اشتہاری مجرمان دہشتگرد شاہد جبار ، عبد الرحمن او ران کے دیگر ساتھی ایک موٹر سائیکل اور کار سوار فیملی کے کور میں ساہیوال کی طرف جارہے ہیں جس پر پیشگی ناکہ بندی کر لی گئی .موٹر سائیکل سواروں کے پاس ایک بڑ ا بیگ تھااو ران کے پیچھے ایک سفید رنگ کی آلٹو کار تھی. جب انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ شروع کر دی اور سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے آفیشلز آپریشنل ٹیکنیکس کی وجہ سے محفوظ رہے اور دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کے لئے دفاعی حکمت عملی اپنائی . اس دوران کار میں سے بھی ایک شخص نے فائرنگ کرنا شروع کر دی .موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے کار سوار ان کے اپنے ساتھی زد میں آ گئے. جب کار کو چیک کیا گیا تو دو اافراد ،ایک عورت اورایک بچی دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ ایک بچہ اور بچی زخمی تھے جنہیںسرکاری ہسپتال پہنچایاگیا . کار سواروں کا سامان چیک کیا گیا تو اس میںپارچا جات کے علاوہ دو خود کش جیکٹس،آٹھ ہینڈ گرینڈ ، دو پسٹل اور سینکڑوں گولیاں برآمد کر کے قبضہ میں لے لی گئیں .ایف آئی آرکے متن میں کہا گیا ہے ہماری سرکاری گاڑی پر بھی دہشتگردوں کے فائر لگے

ساہیوال واقعہ تیرہ سالہ لڑکی کو کیوں مارا گیا

ساہیوال واقعے میں ایسا بیان ہرشخص حیران و پریشان رہ گیا

ایکسپریس نیوز کے مطابق میر پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے جس طرح چار سالوں میں پنجاب سے دہشت گردی کا قلع قمع کیاہے ، اس کی تعریف کی جانی چاہئے ، سانحہ ساہیوال جیسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں ، مجرموں کو سزا ملنی چاہئے ۔ ان کا کہناتھا کہ سانحہ ساہیوال پر دکھ ہوا واقعہ کو مختلف پہلو سے دیکھا جارہا ہے، ایسے واقعات پوری دنیا میں ہوتے ہیں، اس کی تفتیش کرکے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے ، حکومت نے جے آئی ٹی بنا دی ہے جو 72 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی،اس میں آئی ایس آئی ،ایم آئی اور پنجاب پولیس کے سینئر آفیسر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کو سزا دی جائے گی

ساہیوال واقعہ استعفی کا مطالبہ زور پکڑ گیا

لاہور(ویب ڈیسک)سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ڈرائیور ذیشان کے ورثاء نے میت رکھ کرفیروز پور روڈ پردھرنا دے دیا۔ ورثاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذیشان پر دہشتگردی کا الزام واپس لیا جائے، جبکہ وزیرقانون پنجاب راجا بشارت فوری مستعفی ہوجائیں، مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو میت کی تدفین نہیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ ساہیوال میں مقتولین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے

وزیر اعلی پنجاب اور کے پی کے مستعفی اچانک حیرت انگیز خبر آگئی

ساہیوال واقعہ سی ٹی ڈی نے ایسا اقدام اٹھا لیا کسی نے سوچا نہ تھا

کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ساہیوال واقعے کا مقدمہ درج کرلیا، مقدمے میں اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں، مقدمے میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی نے بھی ساہیوال واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ سب انسپکٹر صفدر حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی نے مقدمے میں آپریشن سے متعلق تمام واقعے کو بیان کیا ہے۔ سی ٹی ڈی نے مقدمے میں ، قتل ، اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی نے اپنے مقدمے میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعات بھی شامل کی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ملزمان شاہد جبار اور عبدالرحمان کے بھی ساہیوال جانے کی اطلاعات تھیں

دفاعی اعتبار سے پاک فوج کا شاندار اقدام بھارت اور اسرئیل پریشان

جنرل باجواہ نے پاکستان کی اہمیت کو چار چاند لگا دیا عالمی طاقتیں پاکستان کے سامنے جھک گئیں

ساہیوال واقعے کی جے آئی ٹی آگئی قصوار کسے ٹھہرایا گیا

ساہیوال فائرنگ واقعے میں اصل میں کیا ہوا تھا تحقیقاتی رپورٹ

ساہیوال میں گذشتہ روز سی ٹی ڈی کی جانب سے کی جانے والی اندوہناک کارروائی نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر سی ٹی ڈی اب تک تین بیانات جاری کرچکی ہیں جبکہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے بھی پریس کانفرنس میں سی ٹی ڈی کی ہی پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی ۔ سی ٹی ڈی نے واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر اپنے وضاحتی بیان سانحہ ساہیوال میں ہلاک ہونے والے خلیل کی بے گناہی تسلیم کر لی جبکہ ذیشان کو دہشتگرد قرار دے دیا۔ سی ٹی ڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ ذیشان اس گاڑی میں موجود واحد دہشتگرد تھا۔ گاڑی کالعدم تنظیم داعش کے زیر استعمال رہی۔ ترجمان نے کہا کہ تھریٹ الرٹ موصول ہوا کہ 20 تاریخ کو دہشتگرد حساس ادارے کے دفتر کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں. تھریٹ الرٹ کے بعد سی ٹی ڈی نے حساس ادارے کے ساتھ مشترکہ آپریشن کیا۔ ذیشان کی گاڑی کے شیشے کالے تھے لہٰذا پیچھے بیٹھے ہوئے افراد نظر نہیں آرہے تھے۔ واقعہ میں خلیل ، اس کی اہلیہ اور بیٹی کی ہلاکت انتہائی بد قسمتی تھی۔ ذیشان کا ٹاسک جنوبی پنجاب تک بارودی مواد پہنچانا تھا۔ ذیشان نے جان کر خلیل کے خاندان کو لفٹ دی۔ خلیل کے خاندان کو ذیشان کے عزائم ، گاڑی کے دہشتگردوں کے زیر استعمال رہنے کا علم نہیں تھا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گاڑی کے شیشیے کالے تھے تو سی ٹی ڈی نے گاڑی کو روکا کیوں نہیں ؟ اور بالفرض اگر ذیشان نے گاڑی نہیں بھی روکی تو سی ٹی ڈی نے کار سوار افراد کو فائر کھولنے سے پہلے گاڑی کے ٹائرپر گولی مار کر گاڑی روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اور سب سے بڑھ کر اگر گاڑی میں دہشتگرد بھی سوار تھے تو گاڑی کو گھیرا ڈال کر انہیں حراست میں کیوں نہیں لیا گیا؟ سی ٹی ڈی کا یہ بیان کہ گاڑی کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سےپیچھے بیٹھے افراد نظر نہیں آسکے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے جسے سُن کر ہر شہری کا خون کھول گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کو آخر فائرنگ کرنے اور کسی کو بھی جان سے مارنے کا اختیار کس نے دیا ؟ ان اختیارات کے غلط استعمال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو سوشل میڈیا پر اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی اس کارروائی کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے تاہم کارروائی سے متعلق حقائق جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گے