کیا روس نے امریکہ سے اپنے جنرل کے قتل کا بدلہ لے لیا؟ – اس کا کیسے اور کب جواب دے گا؟

کیا روس نے امریکہ سے اپنے جنرل کے قتل کا بدلہ لے لیا؟ - اس کا کیسے اور کب جواب دے گا؟ماسکو(ویب ڈیسک)ان دنوں شامی فوج کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ دیرالزور میں پیش قدمی کی خبریں آ رہی ہیں۔اس کے علاوہ کہا یہ جارہا ہے کہ الرقہ سے پیش قدمی کرنے والی فوج بھی دیرالزور میں باقی فوج کے ساتھ ملحق ہو گئی ہے۔ دوسری طرف شامی فوج المیادین میں داعش پر حملہ کر رہی ہے۔امریکہ بھی شام اور روس کی فرات کے شرق کی طرف پیشروی سے پریشان ہے، گویا کہ یہ علاقہ امریکہ کے لیے ریڈ لائن ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ: اس علاقے کے جغرافیائی شرائط کی وجہ سے پرواز میں مشکلات ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے لیے روسی جنرل کی جگہ کو معلوم کرنا ناممکن تھا، پس یہ معلومات بین الاقوامی یونین کی طرف سے داعش کو دی گئی ہیں۔کچھ دن پہلے روس نے سیٹلائٹ تصویریں نشر کی تھیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ امریکی فوج کی دیرالزور میں پیش قدمی میں داعش کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی ہے۔امریکہ اس علاقے میں بغیر کسی مشکل کے پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کی گاڑیوں کو داعش کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔امریکہ یہ کام اس لیے کر رہا ہے کہ شام میں اس کی ریڈ لائن کو روس نے کراس کیا ہے، اور روسی جنرل کو بھی اس لیے قتل کیا گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ روس اس کا کیسے اور کب جواب دے گا؟



دوستوں سے شیئر کریں