اردگان قتل ہونے والے ہیں

اردگان قتل ہونے والے ہیں

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
اسلام آباد(ویب ڈیسک)گزشتہ سال امریکی انٹرپرائزز انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکی محکمہ دفاع کے اہلکار مائیکل رابن نے ترکی میں متوقع فوجی بغاوت کا ذکر کیا تو مجھ سمیت ہر ایک کے لیے یہ ایک انتہائی مبالغہ آمیز لطیفہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے اسے صدر ایردوان سے بغض رکھنے والے ایک ماہر امور مشرق وسطی کا ایک بے سروپا احتجاج سمجھا۔ لیکن ہمارے تمام اندازے غلط نکلے۔ صرف چار ماہ بعد رابن کے مضمون کا عنوان کیا ترکی میں ایک فوجی بغاوت متوقع ہے؟” ہمارے سامنے ایک بھیانک حقیقت بن کر کھڑا تھا۔ اپنے آرٹیکل میں رابن نے لکھا تھا کہ اس نے ترکی میں متوقع بغاوت کا سوال اس کی حمایت میں نہیں بلکہ بطور تجزیہ اٹھایا ہے –
اب جب کہ ناکام بغاوت کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مائیکل رابن اس ماہ کے آغاز میں ترکی کے حوالے سے اپنا نیا تجزیہ سامنے لائے ہیں۔ اس مرتبہ اپنے مضمون میں انھوں نے صدر ایردوان کی موت کے امکانات پر بات کی ہے۔ فوجی بغاوت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد پہلی مرتبہ رابن نے اعتراف کیا ہے کہ بغاوت سے قبل اس کے امکانات کا ذکر انھوں نے صرف اپنی چھٹی حس کی بنیاد پر نہیں کیا تھا بلکہ دراصل ان کے کچھ ذرائع نے انھیں مطلع کیا تھا کہ “بغاوت برپا ہونے والی ہے۔یہ سوال انتہائی برمحل ہے کہ آخر ایسے کون سے ذرائع تھے جن کے پاس نہ صرف ترک بلکہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھی زیادہ معلومات تھیں در آں حالیکہ یہ ایجنسیاں تو آخر تک ایسی کسی بھی بغاوت کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں –