میچ ختم ہو چکا ہے – بس سیٹی بجنا باقی ہے – جاوید چوہدری نے بھی ن لیگ کو ہلا کر رکھ دیا

میچ ختم ہو چکا ہے - بس سیٹی بجنا باقی ہے - جاوید چوہدری نے بھی ن لیگ کو ہلا کر رکھ دیا

ہمیں ایک بار پھر تاریخ میں جانا پڑے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے فروری 1972ء میں میاں شریف اور ان کے چھ بھائیوں کا مشترکہ کاروبار قومیا لیا‘ اتفاق گروپ حکومت کے قبضے میں چلا گیا‘ بھٹو صاحب میاں شریف کو گرفتار بھی کرنا چاہتے تھے‘ انور زاہد اس وقت ڈپٹی کمشنر تھے اور جسٹس ملک محمد اکرم ہائی کورٹ کے جج‘ یہ دونوں میاں شریف کی دل سے عزت کرتے تھے‘ انور زاہد مرحوم نے میاں شریف کو ذوالفقار علی بھٹو کے ارادوں سے مطلع کر دیا‘ انھوں نے مشورہ دیا آپ جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنی قبل از گرفتاری ضمانت کرا لیں‘ ضمانت کے کاغذات تیار ہو گئے لیکن کسی جج میں ضمانت لینے کا حوصلہ نہیں تھا۔
لاہور میں صرف جسٹس محمد اکرم تھے جنہوں نے شریف خاندان کی ضمانت لی‘ شریف فیملی نے بعد ازاں پوری زندگی انور زاہد مرحوم کی اطلاع اور جسٹس ملک محمد اکرم کی ضمانت کا پاس رکھا‘ انور زاہد ترقی کرتے کرتے میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری بن گئے‘ یہ‘ سعید مہدی اور طارق فاطمی تینوں 1997ء کے دور میں میاں نواز شریف کے قریب تھے‘ جسٹس ملک محمد اکرم بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بن گئے‘ یہ جسٹس ملک قیوم‘ وفاقی وزیر پرویز ملک اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے والد تھے‘ یہ تینوں صاحبزادے میاں صاحبان کے ہر دور میں اہم پوزیشنوں پر بھی رہے اور میاں برادران ان کی چھوٹی بڑی غلطیاں بھی معاف کرتے رہے۔

انور زاہد مرحوم میاں نواز شریف کی بہت بڑی سپورٹ تھے‘ یہ تجربہ کار‘ ایماندار اور سمجھ دار بیورو کریٹ تھے‘ میاں نواز شریف ان کا بہت احترام کرتے تھے‘ یہ نازک اور مشکل وقت میں ہمیشہ میاں نواز شریف کو کنٹرول کر لیتے تھے‘ یہ انھیں اکثر بتاتے تھے ’’وزیراعظم صاحب ہر چیز کے بے شمار پہلو ہوتے ہیں‘ آپ صرف ایک پہلو دیکھ کر فیصلہ نہ کیا کریں‘‘ یہ انھیں یہ بھی بتاتے تھے ’’اچھا فیصلہ فوراً کریں لیکن برے فیصلے کے لیے ہمیشہ مہلت لیں‘ یہ مہلت آپ کو بچا لے گی‘‘ وہ انگریزی ادب کے کیڑے تھے‘ وہ انگریزی زبان میں کمال فقرے لکھتے تھے‘ میاں شہباز شریف اکثر کہتے ہیں میں نے انور زاہد سے بہتر ڈرافٹنگ آج تک نہیں دیکھی‘ انور زاہد میاں نواز شریف کے غلط فیصلوں کوہمیشہ ٹال دیتے تھے۔
میاں صاحب نے 1997ء کی حکومت میں انور زاہد کی جگہ سعید مہدی صاحب پر انحصار بڑھا دیا‘ سعید مہدی بھی ماہر اور تجربہ کار تھے لیکن یہ میاں نواز شریف کے دباؤ میں آ جاتے تھے‘ یہ فوراً آرڈر جاری کر دیا کرتے تھے اور یہ فوری احکامات اکثر اوقات مسائل پیدا کر دیتے تھے‘ میری 1997ء اور 1998ء میں انور زاہد مرحوم کے ساتھ بہت ملاقاتیں رہیں‘ وہ سینیٹر سیف الرحمن سے شاقی تھے‘ وہ میاں نواز شریف کو ببانگ دہل بتاتے تھے یہ شخص بے وقوف ہے‘ یہ آپ کو مروا دے گا‘ حکومت نے سیف الرحمن کے کہنے پر آصف علی زرداری اور جنگ گروپ دونوں کے ساتھ پھڈا شروع کر دیا تھا‘ انور زاہد اس پھڈے کے بھی خلاف تھے‘ وہ میاں نواز شریف کو آئین میں چھیڑ چھاڑ سے بھی روکتے رہتے تھے اور میاں صاحب جیسے تیسے ان کی بات مان کر رک بھی جاتے تھے‘ وہ میاں صاحب کو اکثر کہتے تھے یہ حکومت اپنے ہیوی مینڈیٹ کا بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی۔

یہ اپنے ہی بوجھ کے نیچے دب جائے گی‘ انور زاہدکا کینسر کے ہاتھوں انتقال ہو گیا‘ مجھے آج بھی یقین ہے وہ اگر زندہ ہوتے تو شاید 12 اکتوبر نہ ہوتا‘ وہ سن گن لے کر میاں نواز شریف کا ہاتھ روک لیتے‘ جنرل پرویز مشرف کو فارغ کرنے کا منصوبہ اگر سعید مہدی کے نوٹس میں بھی آ جاتا تو یہ بھی انھیں روک لیتے لیکن انور زاہد دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور سعید مہدی کو میاں صاحب کی اسکیم کا علم نہیں تھا چنانچہ ملک‘ جمہوریت اور شریف خاندان تینوں بحران کا شکار ہو گئے۔
میاں نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں حسن پیرزادہ بھی ان کی بہت بڑی سپورٹ تھے‘ وہ ایک درویشن صفت انسان تھے‘ لاہور میں تین مرلے کے مکان میں رہتے تھے‘ میاں شریف اور میاں نواز شریف دونوں انھیں پیر کا درجہ دیتے تھے لیکن وہ حکمرانوں کے پیر ہونے کے باوجود اسی تین مرلے کے مکان میں فوت ہوئے‘ وہ بھی وزیراعظم کو مہلک اور خوفناک غلطیوں سے روک لیتے تھے‘ میاں نواز شریف نے 1997ء میں اقتدار سنبھالتے ہی خوفناک پھڈے شروع کر دیے تھے۔
پہلے چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے پھڈا‘ پھر سردار فاروق لغاری سے پھڈا‘ پھر آصف علی زرداری اور میڈیا سے پھڈا اور پھر فوج کے ساتھ براہ راست لڑائی‘ میاں صاحب نے پہلے نیول چیف ایڈمرل منصور الحق کو فارغ کیا‘ پھر آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لیا اور یہ آخر میں جنرل پرویز مشرف کے سامنے بھی کھڑے ہو گئے‘ حسن پیرزادہ بھی انھیں روکتے رہتے تھے‘ میاں نواز شریف حسن پیر زادہ صاحب کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کو ٹالتے رہے ورنہ شریف فیملی کے پروفائل میں بارہ اکتوبر بہت پہلے آ گیا ہوتا‘ میاں نواز شریف نے اگر جنرل مشرف کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ بھی حسن پیر زادہ صاحب سے ڈسکس کر لیا ہوتا‘ یہ اگر ان کے ساتھ بھی مشورہ کر لیتے تو12 اکتوبر ٹل جاتا۔
ہم اب میاں نواز شریف کے تیسرے دور کی طرف آتے ہیں‘ میاں نواز شریف 2013ء کے الیکشنوں کے بعد اکیلے ہو گئے تھے‘ یہ شروع میں چوہدری نثار‘ اسحاق ڈار اور طارق فاطمی تک محدود تھے‘ یہ تینوں ان کی کچن کیبنٹ تھے‘ سب سے پہلے چوہدری نثار اس کچن کیبنٹ سے فارغ ہوئے‘ میاں صاحب کو ان کی تنقید اچھی نہیں لگتی تھی‘ یہ انھیں حد سے زیادہ حساس سمجھتے تھے‘ چوہدری نثار کی حساسیت انھیں میاں صاحب سے دور لے گئی‘ میاں صاحب کے بچوں نے بھی اس دوری میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ 12 اکتوبر 1999ء کے بعد چوہدری نثار کے کردار سے مطمئن نہیں تھے‘ فوج نے انھیں حسین نواز کے سامنے جیپ میں بٹھا کر وزیراعظم ہاؤس سے ذاتی گھر میں منتقل کیا تھا‘ میاں صاحبان جس دور میں مقدمے بھگت رہے تھے چوہدری صاحب اس وقت مزے کے ساتھ گھر میں بیٹھے تھے‘ شریف فیملی چوہدری صاحب کے وہ مزے نہیں بھول سکی تھی‘ چوہدری صاحب کے بعد اسحق ڈار اور طارق فاطمی رہ گئے‘ ڈار صاحب مشیر کے بجائے وفادار تھے۔
یہ صرف کام کرتے تھے‘ یہ مشورہ نہیں دیتے تھے‘ میاں صاحب ان کے معاشی مشوروں کے علاوہ کسی مشورے کو سیریس بھی نہیں لیتے تھے اور پیچھے بچے طارق فاطمی‘ یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھے‘ یہ دفتر خارجہ سے فوج کا کردار ختم کرنا چاہتے تھے‘ میاں صاحب ان کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تھے‘ فوج کے بے شمار اعلیٰ افسر آج بھی یہ سمجھتے ہیں ڈان کی خبر طارق فاطمی صاحب نے ڈرافٹ کی تھی‘ طارق فاطمی کی ماضی کی ڈرافٹنگ اور خبر کی زبان ایک تھی‘ کاموں اور فل اسٹاپس میں بھی طارق فاطمی کی جھلک پائی جاتی تھی چنانچہ مشیروں کی غیر موجودگی نے میاں صاحب کی ذات میں ایک خلاء پیدا کر دیا اور اس خلاء میں میاں نواز شریف کے بچے آ کر بیٹھ گئے اور یہ دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے بچے خواہ ارسطو ہی کیوں نہ ہوں یہ کبھی حکمرانوں کے لیے سعد مشیر ثابت نہیں ہوتے۔
والدین اور بچوں کے درمیان جذبات کا تعلق ہوتا ہے اور جذبات عقل کے دشمن ہوتے ہیں‘ ہم زندگی میں جو بھی فیصلہ ہنستے یا روتے ہوئے کرتے ہیں وہ ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے اور بچے ہنسی ہوتے ہیں یا پھر رونا لہٰذا میاں نواز شریف کے بچے ان کا سب سے بڑا المیہ ثابت ہوئے‘ میا ںصاحب نے اپنے بچوں کو اپنا مشیر بنا لیا تھا‘ یہ تمام بڑے فیصلے بچوں کے مشوروں سے کرتے تھے اور بچے 12 اکتوبر 1999ء سے باہر نہیں نکلتے تھے چنانچہ بیڑہ غرق ہو گیا۔
میاں نواز شریف اس وقت بھی اپنے بچوں کے نرغے میں ہیں‘ پارٹی مریم نواز چلا رہی ہیں‘ یہ خوفناک خوشامدیوں کے قابو میں ہیں‘ یہ خوشامدی دو دو گھنٹے ان کے زیورات‘ کپڑوں‘ جوتوں اور بیگز کی تعریف کرتے ہیں‘ کیپٹن صفدر پورس کے ہاتھی بن چکے ہیں‘ یہ اپنی ہی حکومت کو روندتے چلے جا رہے ہیں‘ حسین نواز ’’ڈٹ جائیں‘ دیکھی جائے گی‘ جو ہونا ہے ہونے دیں‘‘ جیسی فلاسفی کے قائل ہیں‘ یہ اپنے والد کو ’’ہونی‘‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں اور حسن نواز کی ذات میں ایک لاتعلقی ہے‘ یہ لاتعلق رہنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف فوج خواجہ آصف اور احسن اقبال کو نواز شریف کی سوچ سمجھتی ہے اور یہ اس سوچ سے مطمئن نہیں‘ میاں صاحب اس وقت اپنے بھائی میاں شہباز شریف پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ یہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ سمجھتے ہیں‘ میاں شہبازشریف بھی ان سے دور ہو چکے ہیں چنانچہ حکومت تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے‘ یہ حکومت اگر اپنی مدت پوری کر جائے تو یہ بہت بڑا معجزہ ہو گا اور اگر میاں نواز شریف بھی اس بحران سے بچ جائیں تو یہ بھی معجزہ ہو گا لیکن مجھے یہ معجزے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔
میاں نواز شریف کو اس وقت چند سمجھ دار کوچ چاہئیں‘ ایسے مشیر‘ ایسے کوچ جو انھیں خاندان کی کچن کیبنٹ سے باہر لے آئیں اور انھیں مزید غلطیوں سے روک لیں‘ میاں صاحب اگر ایسے کوچ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو پھر انھیں تلخ باتیں برداشت کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی‘ تاریخ بتاتی ہے جو حکمران تلخ اور سچی باتیں برداشت نہیں کرتے وہ بہت جلد عبرت کا نشان بن جاتے ہیں اور میاں صاحب کے کانوں نے تلخ باتیں سننا بند کر دیا تھا چنانچہ یہ آج اچھا کھلاڑی ہونے کے باوجود گراؤنڈ سے باہر بیٹھے ہیں‘ میاں صاحب کو اب کوئی اچھا کوچ ہی واپس گراؤنڈ میں لا سکتا ہے باقی میچ تقریباً ختم ہو چکا ہے بس سیٹی بجنا باقی ہے