قمر باجوہ کا ڈندہ راحیل شریف سے زیادہ دبنگ ہے – قمر باجوہ نے کیسے کامیاب پالیسی چلائی؟ – معروف صحافی کے انکشافات

قمر باجوہ  کا ڈندہ راحیل شریف سے زیادہ دبنگ ہے - قمر باجوہ  نے کیسے کامیاب پالیسی چلائی؟ - معروف صحافی کے انکشافاتاسلام آباد(ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ پاکستان کے ایران اور افغانستان لے ساتھ جو تعلقات ہیں اور اس میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو کردار ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے سویلین حکومت کو بائی پاس کر کے کوئی اپنی پالیسی نہیں چلائی۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، ڈیفنس کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کے تحت کر رہے ہیں۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں وزیر اعظم بھی شامل ہیں اور اس کمیٹی کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ جنرل باجوہ کی قیادت میں بطور ادارہ فوج اس خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بار بار جنرل راحیل شریف کا ذکر نہیں کرنا چاہتا ، میری ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے لیکن قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں جو ایران کا دورہ کیا تو انہوں نے وہاں جا کر حتی الامکان ملاقاتیں کیں اور ایران کی سینئیر قیادت سے بھی بات چیت کی ،جس کے بعد قمر جاوید باجوہ نے جوائنٹ پریس کانفرنس کی۔ان کے اقدامات سے صاف ظاہر تھا کہ وہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جب جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے اور ایران کے ایک سینئیر لیڈر پاکستان آئے تھے تو فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ ہو گیا جس پر ایرانی لیڈر شپ کافی ناراض ہوئی تھی اور ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اب جب سے جب سے جنرل باجوہ آرمی چیف بنے ہیں انہوں نے جنرل راحیل شریف کے زمانے کا تاثر زائل کر دیا ہے۔جس کا ثبوت ان کی 6 ستمبر کی تقریر ہے۔ ان کی تقاریر اور بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ۔ ہمارا بنیادی مقصد ایران اور افغانستان میں بھارت کا اثرو رسوخ کم کرنا ہے۔ اس مرتبہ جب انہوں نے کابل کا دورہ کیا تو اس موقع پر ان کے ہمراہ تہمینہ جنجوعہ بھی موجود تھیں، انہوں نے وہاں جو بھی بات کی وہ سیویلین حکومت کی پالیسی کے عین مطابق کی تھی