سب کیا سمجھتے رہے مگر حقیقت کچھ اور نکلی – اسرائیل اور کس اسلامی ملک خفیہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں؟ – اسرائیل کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا


سب کیا  سمجھتے رہے مگر حقیقت کچھ اور نکلی  - اسرائیل  اور کس اسلامی ملک خفیہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں؟  - اسرائیل کے انکشاف نے  تہلکہ مچا دیا تل ابیب (ویب ڈیسک) اسرائیلی ویب سائٹ ہرٹز اور یروشلم آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر نے کہاہے کہ اسرائیل سعودی عرب کی توسط سے ہونے والے امن مذاکرات کیلئے تیارہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کو دورے کی دعوت دیتے ہیں ۔ اسرائیلی ویب سائٹ ہرٹز اور یروشلم آن لائن کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی اسرائیلی وزیر نے سعودی اخبار کو انٹرویو دیاہے – اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر نے اپنی گفتگو کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی اپنے ملک دورے کی دعوت دیں ۔ ان کا کہناتھا کہ امریکہ امن کی منصوبہ بندی کر رہاہے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں کون کون شامل ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ ہمیں کہا گیاہے کہ ہم ایک نئی تخلیق کے ساتھ آئیں گے اور کسی سے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کیلئے یہ اقدام اٹھانے کا موقع ہے ۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ ہم ایک تجویز پیش کریں گے لیکن اسے لاگو نہیں کریں گے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کیلئے یہ ایک موقع ہے ۔ ان کا کہناتھا میں سعودی عرب عر ب دنیا کے لیڈر کے طور پر قدم اٹھائے اور فلسطین آ کر اپنا تعاون پیش کریں – اس صورتحال میں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔ اسرائیلی وزیر نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کو سعودی عرب کی دعوت دیں اور ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل آئیں اور دورہ کریں ۔ واضح رہے کہ امریکہ کے بیت المقدس کو اسرائیلی دالرحکومت تسلیم کر نے کے اعلان کے بعد فلسطین میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے جس کے پیش نظر آج ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس ہوا جس میں بیت المقدس کو فلسطین کا دارلحکومت قرار دے دیا گیاہے