جتنا بڑا عہدہ – اتنا بڑا چور

رؤف کلاسرا : پہلے پاناما اور اب پیراڈائز لیکس۔ جب سے یہ نئی لیکس آئی ہیں‘ میں مسلسل اپنے پرائمری سکول جیسل کلاسرا کو یاد کر رہا ہوں‘ جہاں ہم زمین پر بیٹھ کر پڑھتے تھے اور سکول کی دیوار نہیں ہوتی تھی۔ سکول کے دو کمرے تھے اور دو ہی درخت۔ گرمیوں میں جوں جوں درخت کی چھائوں سورج کے رخ پر بدلتی‘ ہم بچے بھی اس چھائوں کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ بدلتے جاتے۔ پرائمری تک وہاں پڑھا اور مجھے یاد نہیں کہ ایک دن بھی خوشی سے سکول گیا ہوں۔ ہمارے استاد کلاس شروع کرتے ہی حاضری لگانے کی بجائے پوچھ لیتے: آج کون کون نہیں آیا۔ ہم سب بچے خوشی سے ان بچوں کے نام بتاتے جو سکول نہ آئے ہوتے کیونکہ سب کو پتا تھا کہ اب کلاس کے بچوں کا ایک جتھا‘ اُس بچے کے گھر اسے پکڑنے جائے گا۔ وہ بچہ انہیں آتے دیکھ کر پہلے دادا یا دادی کے پاس جا کر چھپ جائے گا‘ یا تھوڑا بڑا ہو گا تو بھاگ کھڑا ہو گا اور پھر پوری بستی تماشا دیکھے گی۔ وہ لڑکا کھیتوں میں آگے آگے دوڑتا اور سکول کے پانچ چھ بچے اس کے پیچھے۔ بے چاری دادی کہتی رہ جاتی: آج نہیں جا رہا تو رہنے دو‘ کل میں خود لے آئوں گی‘ لیکن دادی کی کس نے سننی ہوتی تھی۔ دادا کہتا: میرا پوتا میری مانتا ہے‘ تم لوگ جائو میں اسے خود لے کر آتا ہوں۔ دادا کے اٹھنے سے پہلے ہی پوتا چھلانگ مار کر گھر سے بھاگ جاتا۔ پوری بستی باہر نکل آتی۔ خواتین حیرانی سے پوچھ رہی ہوتیں: یہ کس کا بچہ ہے۔ اچھا اچھا فلاں کا بیٹا ہے۔ مجھے تو پہلے ہی پتا ہے کہ اس کے بچے نہیں پڑھیں گے‘ اس کی ماں نہیں پڑھی تو یہ خاک پڑھے گا۔ خواتین کو ایک دوسرے پر غصہ نکانے کا موقع مل جاتا۔دوسری طرف ہم سب یہ منظر سکول سے براہ راست دیکھ رہے ہوتے‘ اور ساتھ میں کوئی رننگ کمنٹری بھی کر رہا ہوتا کہ اب فلاں جگہ چھپ گیا ہے۔ اب فلاں کھیت کے اندر ہے۔ جبکہ استاد صاحب سنجیدگی اور غصے کے عالم میں آنکھوں پر ہاتھ رکھے سورج کی روشنی سے بچنے کی کوشش میں اپنے تھنڈر سکواڈ کی دوڑ دیکھ رہے ہوتے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کلاس کے مانیٹر سے کہتے: ذرا میرا ڈنڈا تیار رکھو۔شروع میں تو ہم مزہ لیتے کہ چلیں اب تماشا ہو گا۔ کلاس فیلو کو پٹتے دیکھیں گے لیکن پھر جب چیخیں سنتے تو سب کا دل کانپ جاتا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بچہ روتا پیٹتا سکول لایا جاتا۔ تلاش میں جانے والے پانچ بچوں نے اسے ڈولی بنا کر اٹھایا ہوتا۔ وہ بڑے فخر سے اُسے لا کر ماسٹر صاحب کے سامنے ڈال دیتے‘ جیسے کہہ رہے ہوں کہ لیں استاد جی! شکار حاضر ہے۔ ان پانچ‘ چھ کو یہ بھی پتا ہوتا تھا کہ آج کے دن تو کم از کم ان کو پھینٹی نہیں لگے گی کیونکہ وہ بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے کر آئے ہیں۔ اس لیے وہ ہم سب پر بڑے فخر سے نظر ڈالتے کہ آپ تو آج کسی نہ کسی سبق پر مار کھائو گے‘ ہم نہیں۔ استاد صاحب تھپڑوں سے شروع کرتے اور پھر کچھ ڈنڈے مار کر اور کچھ گالیاں دے کر اس بچے کو پورے سکول کے سامنے کان پکڑوا کر بھول جاتے‘ اور ہمیں کہا جاتا: چلو اب اردو کا سبق یاد کرو کہ انسان اشرف المخلوقات ہے‘ اور سب جانور لالچی، مکار اور ہڈ حرام ہوتے ہیں۔ہم اس صورت حال میں کہاں پڑھ سکتے تھے۔ اب اس بچے کی سزا ختم ہونی ہوتی تو اس کے لیے اسے دو قسم کی قسمت درکار تھی۔ یا تو کسی اور کلاس کے استاد کو اس بچے پر رحم آ جاتا جو صبح سے یہ ڈرامہ دیکھ رہا ہوتا‘ تو وہ آ کر اس کے کان چھڑوا کر اسے ہمارے ساتھ بٹھا دیتا‘ اور پیار سے کہتا: اب اسے کچھ نہ کہیں‘ اب یہ روز سکول آئے گا۔ اگر کوئی استاد اس دن یہ رحم نہ دکھا پاتا تو تو پھر بستی کا کوئی معزز سکول کے قریب سے گزرتے ہوئے بچے کو کان پکڑے دیکھتا‘ تو استاد کا منت ترلا کرکے اسے بچا جاتا۔ یہ کام روزانہ ہوتا اور ہم روز پڑھتے انسان بہت اعلیٰ ہے۔ یہ لالچی نہیں۔ یہ اچھے کردار کا مالک ہوتا ہے۔ ایک دن سب نے مر جانا ہے۔ اچھے اعمال دنیا میں باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ سب دولت یہیں رہ جانی ہے۔ دنیا فانی ہے۔پرائمری کلاس میں ہم سب کو اردو کی کتاب میں سے لالچی کتے اور مکار لومڑی کی کہانیاں پڑھائی جاتی تھیں‘ اور میرے جیسے بچے سمجھتے تھے کہ صرف جانور ہی لالچی ہوتے ہیں کیونکہ اکثر ایسی کہانیاں جانوروں کے بارے میں ہوتی تھیں کہ وہ کتنے بے صبرے ہوتے ہیں۔ خرگوش اور کچھوے کی کہانی پڑھائی جاتی تھی کہ جو دھیرے اور صبر سے چلتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ کوے کو مکار دکھایا جاتا جو منڈیر پر بیٹھ کر بری خبریں سناتا ہے‘ یا پھر سگھڑ خاتون کا گھر کا خالص اور گُندھا ہوا آٹا چوری کرتے وقت وہیں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ یا پھر پیاسے کوے کی کہانی پڑھتے۔اسی طرح ہمیں پڑھایا جاتا کہ جنہیں اپنی تیز رفتاری پر بہت ناز ہوتا ہے‘ وہ جلدی گرتے ہیں۔ اسی طرح بچپن کی کہانیوں میں گدھے کو ہمیشہ بیوقوف دکھایا گیا۔ بندر ہمیشہ چالاک اور لومڑی مکار دکھائی گئی۔ مجھے سمجھ نہ آتی کہ گدھے کو ہم اس لیے بیوقوف سمجھتے ہیں کہ وہ سارا دن سر جھکائے کام کرتا رہتا ہے۔ وہ کام چور نہیں ہوتا‘ اس لئے انسان کے نزدیک بیوقوف ٹھہرا۔ اسی لیے بڑے عرصے تک میں یہ سمجھتا رہا کہ لالچ، چوری، چالاکی، مکاری اور ہڈ حرامی یہ سب کام جانور کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ ان تمام برائیوں کو کرپشن کا نام دے سکتے ہیں‘ جو جانور کرتے ہیں۔ ہم بچپن سے بچوں کو بتاتے ہیں کہ انسان تو ایسا کر ہی نہیں سکتے۔کلاس میں ایک لڑکا کھڑا کر دیا جاتا کہ چلو اونچی آواز میں سبق سنائو۔ وہ استاد کے ڈر کے مارے کہیں اٹکتا تو استاد کسی دوسرے لڑکے سے کہتا کہ چلو تم بتائو اس لفظ کا کیا مطلب ہے۔ کسی کو ڈنڈا پڑ جاتا تو بھی ہم نہ ہنستے کیونکہ سب کو پتا ہوتا تھا کہ اگلے لمحے اس کی باری ہو گی۔ کلاس کو اجتماعی سزا کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا تھا کوئی کسی کو طعنے دینے کے قابل نہیں رہتا تھا۔ اس روز سب ہنسی خوشی رہتے تھے‘ ورنہ جس دن صرف دو چار کو مار پڑتی تو گھر تک اس بے چارے کا اتنا مذاق اڑایا جاتا کہ وہ اگلے دن سکول ہی نہ آتا۔ تو کیا ہمیں بچپن میں جو کچھ سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے وہ سب جھوٹ ہے؟ ہم سب ملبہ جانوروں پر ڈال دیتے ہیں تاکہ انسانوں کو اخلاقی تربیت دی جائے؟ اس تربیت کے نام پر ہم جانوروں کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہم انسان بڑے باشعور ہیں جسے خدا نے سوچنے کی صلاحیت دی ہوئی ہے جبکہ جانور اس خوبی سے محروم ہیں۔ یرے خیال میں اس تعلیم کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہم جانوروں اور پرندوں سے محبت نہیں کرتے۔ آج بھی گائوں میں کوئی بندہ یا لڑکا کسی کتے کو دیکھ لے اس کا پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ پتھر اٹھا کر اسے مارے گا۔ چاہے کتا کچھ بھی نہ کرے۔ کہیں چڑیاں بیٹھی نظر آئیں گی تو وہ انہیں غلیل سے مارے گا۔ پرندوں کے گھونسلوں سے انڈے چوری کر لینا بھی بڑا شغل سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے اس دنیا میں جو بھی جانور یا چرندپرند ہیں‘ یہ سب انسانی مخلوق کے کام آنے کے لیے ہیں۔ انہیں کھیتوں میں استعمال کر لو، ان پر سواری کر لو، ان کی پٹائی کر لو یا پھر ان سے کھانے کی چیزیں تیار کر لو۔ ان سب نے تمہیں سَروْ کرنا ہے۔ تو کیا اثر ہوا ہے ان تمام اخلاقی ضابطوں پر لکھی گئی کہانیوں کا‘ جن میں جانوروں کی اکثریت کے خلاف تحریریں لکھی گئیں؟ آج دل چاہ رہا ہے اپنے استادوں سے پوچھوں کہ جس لیول کی کرپشن سامنے آ رہی ہے تو کیا صرف جانور ہی لالچی، مکار اور دھوکے باز ہوتے ہیں؟ جن کو خدا نے ملکوں کا بادشاہ بنایا، وزیراعظم بنایا، وزیر بنایا، اربوں کی جائیدادیں دیں، عزت دی وہ بھی اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے چور نکل آئے ہیں… اور ہم سب ملبہ پرندوں اور جانوروں پر ڈالے بیٹھے ہیں۔
بہتر ہے اب ہم جانوروں اور پرندوں بارے جھوٹ بول بول کر انسانوں کو اخلاقی درس دینا بند کریں۔ اب ہم اپنے بارے میں لکھیں کہ ہم خود کتنے مکار، کرپٹ، دھوکے باز، لالچی اور جھوٹے ہیں۔ ایک کہانی کا ٹائٹل میں ابھی بتا دیتا ہوں۔ جتنا بڑا عہدہ… اتنا بڑا چور