تازہ ترین – اسلا م آبادپارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان کردیاگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)قبائلوں نوجوانوں پر مشتمل تنظیم فاٹا یوتھ جرگہ نے فاٹا ریفارمز کے نفاذ میں تاخیر پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپریل کے آخری ہفتے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کاا علان کردیا۔ منگل کو فاٹایوتھ جرگہ کے نو منتخب چیئرمین عدنان شنواری، جنرل سیکرٹری عبدالقادر، ترجمان نظام الدین ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز پر عملد رآمد میں تاخیر سے فاٹا کی عوامباالخصوص نوجوانوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے،سینیٹ انتخابات کی وجہ سے یوتھ جرگہ کی سرگرمیاں محدود ہو گئی تھی،اب بھر پور مہم چلائیں

گے، قبائلیوں کا مطالبہ صرف سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانا نہیں بلکہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر من وعن عملدرآمد کرانا ہے، اس سلسلے میں نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بھی ملاقات کر کے صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا،فاٹا ریفامز سے متعلق بل سینیٹ میں پڑا ہے جس کو پاس کر کے فاٹا کو فوری طور پر قومی دھارے میں شامل کرایا جائے ،اس سلسلے میں پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ویگر جماعتیں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔مقررین نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی طرح فاٹا میں بھی نئی حلقہ بندیاں کرا کر 2018 ء کے الیکشن سے پہلے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے،فاٹا کی عوام محب وطن، ان کی حب الوطنی پر شک کرنے والوں کی ہی حب الوطنی سوالیہ نشان ہے،قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے،وہاں کے لائق طالبعلموں کو بھی ملک کے مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے نہیں ملتے،وہاں کے نوجوان ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے آئین میں شمولیت کیلئے تحریک چلا رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہیں ، وہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے شہریوں کے مساوی شہریت کا حق مانگتے ہیں جو ان کا جائز مطالبہ ہے، حکمرانوں کو اُن کے جائز مطالبات تسلیم کرلینے چاہیے،مقررین کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی کا دارو مدار فاٹا سے منسلک ہے، قبائلی نوجوانوں کو بنیاد ی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا تو وہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کی طرف راغب ہوں گے،آج نوجوان انضمام کیلئے آواز بلند ہو رہے ہیں کل ایسا نہ ہو کہ وہ آزادی کیلئے آواز بلند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ مقررین نے فاٹا ریفارمز کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو گ فاٹا ریفارمز کی مخالفت کررہے ہیں وہ در اصل انگریز کے ایجنٹ ہیں کیونکہ فاٹا کو علاقہ غیر اور ایف سی آر جیسے کالے قوانین کے تحائف انگریزوں نے دئیے ہیں اور یہ لوگ ان قوانین کا تحفظ چاہتے ہیں۔یوتھ جرگہ کے ترجمان نظام الدین کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ سینیٹ یوں تو وفاق کی علامت ہے لیکن اس میں فاٹا کی نمائندگی وفاقی اصولوں پر نہیں، فاٹا کے سینیٹروں میں سوائے ساجد حسین طوری کے تمام فاٹا ریفارمز کے مخالف ہیں، جمعیت علمائے اسلام ف اور پختونخوا ملی پارٹی کے علاوہ ساری جماعتیں فاٹا انضمام پر متفق ہیں۔