یمن جنگ کے خاتمے کے لئے – ایران کی سعودی عرب کو بہت بڑی پیش کش

تہران(ویب ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے یمن کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران یمن کے بحران کے حل کے لئے ہمیشہ تعاون پر آمادہ ہے، یمنی بحران پر ایران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کاس خواہشمند مگر سعودیوں نے مخالفت کی،اگر سعودی عرب اس بحران کا پرامن حل چاہے تو ایران مدد کے لئے تیار ہے۔
برطانوی میڈیا بی بی سی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے یمن کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر تاکید کی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بی بی سی چینل کی عربی سروس کوانٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ایران یمن کے بحران کے حل کے لئے ہمیشہ تعاون پر ا?مادہ ہی.انہوں نے کہا کہ یمنی بحران کے آغاز سے ایران سعودی عرب کے ساتھ اس ملک کے بحران کے حل کے لئے مذاکرات چاہتا تھا مگر سعودیوں نے اس تجویز کی مخالفت کی.محمد ظریف نے کہا کہ سعودی حکام یہ سوچ رہے تھے کہ یمن میں جلد کامیاب ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر فوجی حملوں کے آغاز کے بعد ہم نے ایک بار پھر جنگ بندی کے خاتمے اور یمنی فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تجویز دی مگر انہوں نے اس کی مخالفت کی.ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھی بھی سیاسی حل تلاش کرنے کا موقع باقی ہے اور اگر سعودی عرب اس بحران کا پرامن حل چاہے تو ایران اس موضوع کی مدد کے لئے تیار ہی.واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی شہہ پر پچھلے تین برس سے یمن کو وحشیانہ جارجیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مغربی ایشیا کے اس غریب اسلامی ملک کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
سعودی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کئی لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ سعودی محاصرے کی وجہ سے یمن میں غذائی اشیا اور دواؤں کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔