منظور پشتین کی پاک فوج کے مخالف مہم کے بعد – آرمی چیف کی جانب سے سیکیورٹی حکام کو کیا ہدایات کی گئیں – حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

منظور پشتین کی پاک فوج کے مخالف مہم کے بعد - آرمی چیف کی جانب سے سیکیورٹی حکام کو کیا ہدایات کی گئیں - حیران کن تف
راولپنڈی(ویب ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو ریاست، حکومت اور فوج کی سطح پر کمزوری نہ سمجھا جائے۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پہلی گولی آنے پر نقصان نہ ہو تو کوئی جواب نہیں دیں گے، بھارت کی جانب سے اگر دوسری گولی آئی تو پھر بھرپور جواب دیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے 13 برس میں 2 ہزار سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور صرف 2018 میں 1 ہزار 77 سیز فائر خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت ہیں اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈی جی ایم اوز نے جن باتوں پر اتفاق کیا ہے اس پر عمل کیا جائے اور پاکستان سیز فائر سمجھوتے کی پاسداری کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہان تھا کہ پاکستانی عوام، سیکیورٹی فورسز اور میڈیا نے سیز فائر کے معاملے پر انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جسے بھارتی میڈیا نے پاکستان کی جانب سے خلاف ورزی قرار دیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب سے افغانستان کے ساتھ جیو فینسنگ شروع کی تو سرحد پار فائرنگ کے 71 واقعات ہوئے، سرحد پار فائرنگ سے 7 سپاہی شہید اور 39 زخمی ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باڑ کی اور فورس بنانے کی کوشش کو آہستی نہیں کر رہے، پچھلی دو دہائیوں میں وہ کام کیا جو کسی اور ملک نے اس طرح کے چیلنجز ہوتے ہوئے نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب بھی کسی بیرونی خطرے پر بات کی تو پوری لیڈرشپ نے فیصلہ کیا اور آگے چلے، ہم سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں امریکا کامیاب ہوکر افغانستان سےنکلے اور ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گروپوں کا صفایا کیا، اس وقت پاکستان میں بشمول حقانی نیٹ ورک سمیت کسی بھی منظم دہشت گروپ کا اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ضروری ہے کیونکہ ان کے جانے کے بعد پاکستان میں جو بھی دہشت گرد ہیں ان سے مقابلے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ افغان اور امریکی بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ضرب عضب سے جو دہشت گردوں کی تعداد تھی اسے ختم کر دیا۔ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتر ہوئے ہیں اور ،
محفوظ سرحد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان فورسز نے دو دہائیوں میں بہت کچھ سیکھا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی تو آرمی چیف بھی کوئٹہ گئے اور متاثرین سے ملے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے 100 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث سلمان بادینی کو ہلاک کیا گیا، سلمان بادینی کی ہلاکت پر ہزارہ کمیونٹی کا بہت اچھا رد عمل سامنے آیا۔انہوں نے کہا کہ سلمان بادینی کا نیٹ ورک توڑنے سے بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔فاٹا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کا تاریخی انضمام ہوا جو فاٹا کو ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین آرمی چیف سے ملے اور قومی قیادت نے مل کر فاٹا کا تاریخی فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سمجھتے ہیں فاٹا کے معاملے پر 100 فیصد اتفاق نہیں تھا اور کچھ انضمام نہیں چاہتے تھے لیکن اب انضمام ہو گیا ہے، فاٹا یوتھ جرگے کو آرمی چیف نے کہا کہ جو انضمام کے حق میں نہیں تھے انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے۔فاٹا کے انضمام کا افغانستان کی سرحد کے ساتھ نہ پہلے کوئی تعلق تھا، نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔