X

How to earn money without investment, How to become rich Video

How a poor Pakistani Became Billionaire , How to earn money without investment, How to become rich Video . How to become Millionaire

خبر کی مکمل تفصیل کیلئے آخر میں دی گئی ویڈیو ضرور دیکھیں

پیسے کمانا بچوں کا کھیل نہیں – اس کام کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتا – انسان غلط راستہ اپناتا ہے – لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے – عجیب و غریب کاموں میں پڑتا ہے- کبھی کبھی تو انسان کو جان سے ہاتھ دھونا بھی پڑتا ہے – محن مشقت کے بعد مایوس ہو کر بیتھ جاتا ہے یا غلط راہ پر چل پڑتا ہے زیادہ تر لوگ پیسے کمانے کے معاملے میں دوسروں کو دیکھتے ہیں – ایک شخص کو کسی کام میں فائدہ کیا ہوا کہ سب بھیڑ چال میں اسی کام میں کود پڑتے ہیں – پیسہ کمانا دراصل اتنا مشکل کام نہیں – اس کیئلے سونے کی چمچ منہ میں لیکر پیدا ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بھاری زرمبادلہ چاہئے – ہمارے اردگر گرد ہر دور اور ہر وقت کوئی ایسا سادہ اور آسان کام ہو گا جسے کر کے انسان راتوں رات امیر ہو سکتا ہے – مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام اتنا سادہ اور آسان ہوتا ہے کہ ہر کسی کی نظر نہیں پڑتی –
ہم ایسی ہی ایک کہانی آپ کیلیئے لیکر آئے ہیں – یہ واقعہ ہے ساہیوال کے ایک متوسط گھرانے کا – یہ خاندان نہ ہی امیر تھا اور نہ ہی زیادہ پڑھا لکھا – نہ کوئی جادوئی ہنر جانتا تھا اور پیسہ کمانے کیلئے غلط راہ لی – کہانی ہے ایک پاکستانی کروڑ پتی طارق فرید کی جو امریکہ میں ایک کمپی کا مالک ہے – طارق فرید اس وقت امریکہ کی امیر ترین لوگوں میں سے ہیں ان کی کمپنی ہر سال اربوں روپے کا نفع کماتی ہے ۔ ان کی کمپنی پھلوں کو گل دستوں میں سجا کر بیجتی ہے جیسے کی پھولوں کا گلدستہ ہوتا ہے طارق فرید نے پھولوں کی جگہ پھل لگا کر بھیجنا شروع کر دیا جو کی بلکل پھولوں کی طرح لگتے ہیں لیکن اس گلدستے کو لوگ کھا بھی سکتے ہیں یہ آئیڈا امریکہ میں کلک کر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے طارق فرید کی زندگی تبدیل ہو گئی – طارق فرید 1969 ء میں سائیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے یہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں – ان کی فیملی کو پھل کھانے کا شوق تھا – ایک دن ان کے والد کے ایک دوست نے ان کو امریکہ بلا لیا – یہ لوگ امیر نہیں تھے مگر کسی طرح بہت مشکل سے وہاں پہنچے – شروعات میں گزارہ بہت مشکل سے ہورہا تھا اور انکو بہت سخت مرحلوں سے گزرنا بھی پڑا –

یہ 8 فیملی ممبرز تھے ۔ نیا ملک اور ان میں سیٹل ہونا انتہائی مشکل کام تھا ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے ، طارق کے والد ایک میکنک کے حیثیت سے کام کنے لگے اور شام میں میکڈونلز میں کام کیا کرتے تھے تاکہ اپنے فیملی کا پیٹ بھر سکے – طارق کے مطابق ایک دفعہ امریکہ میں ان کا آم کھانے کا دل چاہا۔یہ لوگ آم خریدنے ایک سٹور گئے لیکن وہاں آم انتہائی مہنگے تھے ایک آم ایک ڈالر کا تھا اور طارق کے والد پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ آم بھی خرید نہین سکے – طارق فرید سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور اپنے گھر کی مالی حالت کو دیکھ کر یہ مالی سپورٹ کرنا چاہتے تھے – طارق نے بھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی نوکری ڈھنڈنا شروع کر دیا – طارق نے گھروں میں اخبار ڈلیور کیا – رسٹورنٹ میں برتن دھوے – لوگوں کے لان کی گاس کاٹی اور برگر کنگ میں بھی نوکری کی – یہ تمام پیسے اپنے والدہ کو دے دیا کرتے تھے – 1886 میں جب ان کی عمر 16 ،17 سال کی ہوئی تو طارق کے والد نے 6 ہزار ڈالرز کی ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان خریدلی – یہ پیسے بھی انہون نے ادھار لے تھے – طارق بھی اسی دکان میں کام کرنا کرنے لگے –

وقت گزرتا گیا – 1999 ء میں طارق اور ان کی فیملی کی زندگی تبدیل ہونے جاری تھی – طارق کے ذہن میں ایک آئیڈا پیدا ہوا انہؤں نے سوچا کہ یہ لوگ جیسے پھولوں کے گلدستہ بنا کر بھیجتے ہیں کیوں نہ ہم پھلوں کے گلدستے بنا کر بھیچنا شروع دیں- ایک اچھا آئیڈیا انسان کی زندگی تبدیل کر سکتا ہے – طارق اور ان کی فیملی ویسے ہی پھل کھانے کے بے حد شوقتین تھے اور انہوں نے فوراً اس آئیڈیا پر کام کرنا شروع کر دیا انہوں نے تجربے کے طور پر اپنے کچھ کسٹمرز کو پھلوں کے گلدستے فری میں دینا شروع کر دیا – کسٹمرز متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ وہ ایسے اور گلدستے خریدنا چاہتے ہیں ایک دفعہ ان کو 28 آڈر ایک ساتھ مل گئے – اس وقت ان لوگوں کے پاس ایسے گل دستے بنانے کی مشین بھی موجود نہں تھی اور یہ لوگ ان گل دستوں کو پوری پوری رات بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے بناتے تھے – دیکھتے ہی دیکھتے طارق اور ان کی فیملی کا یہ کاروبار بڑھتا چلا گیا انہوں نے اپنے فرنڈچائیز بھی مختلف لوگوں کو بھیجنا شروع کر دی اور آہستہ آہستہ نہ صرف امریکہ میں بلکہ ان کی کمپنی دنیا کی مختلف ملکوں میں پھیل گئی – آج صرف امریکہ میں طارق اور ان کی فیملی کی 1200 سے زائد سٹورز ہیں – ان کی کمپنی کے سالانہ شئیرز 600 میلن ڈالرز یعنی 80 ارب سے زیادہ ہیں – آج طارق نہ صرف پھلوں کا گلدستہ بناتے ہیں بلکہ چاکیلڈ فوڈز بھی بھیجتے ہیں – طارق کے مطابق ان کی والدہ جو اس کمپنی کے شروع ہوتے ہی وفات پا گئی تھی ان کو ایک وصیت کر کٓر گئی تھی اور وہ یہ تھی کہ کبھی مت بھولنا کہ تم کہاں سے آئے ہو اورتم پہلے کیا تھے طارق اور انکی کمپنی آج امریکہ میں مشہور ہے ۔ان کی کہانی ہم سب کو ہی سکھاتی ہیں کہ وسائل نہ ہونے کا رونا رو کے ہم کبھی بھی آگئے نہیں بڑھ سکتے بلکہ حالت کا مقابلہ کر کے زندگی میں کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں – ایک آئیڈیا یا چھوٹا کام انسان کو کہاں سے کہاں پہنچاتا ہے